Power of Positive Thinking | Early Pk

The Power of Positive Thinking

Inspirational story

مثبت سوچ کی طاقت 

احمد نے فیصلہ کیا کہ اسے بطخ نہیں بننا بلکہ عقاب بننا ہے!

میں جہاز سے اترا اور کسٹم سے گزر کر ٹیکسی لینے سٹینڈ کی طرف چلا۔ جب میرے پاس ایک ٹیکسی رکی تو مجھے جو چیز انوکھی لگی وہ گاڑی کی چمک دمک تھی۔ اس کی پالش دور سے جگمگا رہی تھی۔ ٹیکسی سے ایک سمارٹ ڈرائیور تیزی سے نکلا۔ اس نے سفید شرٹ اور سیاہ پتلون پہنی ہوئی تھی جو کہ تازہ تازہ استری شدہ لگ رہی تھی۔ اس نے صفائی سے سیاہ ٹائی بھی باندھی ہوئی تھی۔ وہ ٹیکسی کی دوسری طرف آیا اور میرے لئے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھولا۔

اس نے ایک خوبصورت کارڈ میرے ہاتھ میں تھمایا اور کہا ’سرجب تک میں آپ کا سامان ڈگی میں رکھوں، آپ میرا مشن سٹیٹ منٹ پڑھ لیں۔ میں نے آنکھیں حیرانگی سے کھول لیں۔ یہ کیا ہے؟‘ میرا نام احمد ہے، آپ کا ڈرائیور۔ میرا مشن ہے کہ مسافر کو سب سے مختصر، محفوظ اور سستے رستے سے ان کی منزل تک پہنچاؤں اور ان کو مناسب ماحول فراہم کروں ’۔ میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ میں نے آس پاس دیکھا تو ٹیکسی کا اندر بھی اتنا ہی صاف تھا جتنا کہ وہ باہر سے جگمگا رہی تھی۔

احمد اس دوران وہ سٹئرنگ ویل پر بیٹھ چکا تھا۔ ’سر آپ کافی یا چائے پینا چاہیں گے۔ آپ کے ساتھ ہی دو تھرماس پڑے ہوئے ہیں جن میں چائے اور کافی موجود ہے‘ ۔ میں نے مذاق میں کہا کہ نہیں میں تو کوئی کولڈ ڈرنک پیوں گا۔ وہ بولا ’سر کوئی مسئلہ نہیں۔ میرے پاس آگے کولر پڑا ہوا ہے۔ اس میں کوک، لسی، پانی اور اورنج جوس ہے۔ آپ کیا لینا چاہیں گے؟‘ میں نے لسی کا مطالبہ کیا اور اس نے آگے سے ڈبہ پکڑا دیا۔ میں نے ابھی اسے منہ بھی نہیں لگایا تھا کہ اس نے کہا ’سر اگر آپ کچھ پڑھنا چاہیں تو میرے پاس اردو اور انگریزی کے اخبار موجود ہیں‘ ۔

اگلے سگنل پر گاڑی رکی تو زوار نے ایک اور کارڈ مجھے پکڑا دیا کہ اس میں وہ تمام ایف ایم سٹیشن ہیں جو میری گاڑی کے ریڈیو پر لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان میں وہ تمام البم بھی ہیں جن کی سی ڈی میرے پاس ہے۔ اگر آپ کو موسیقی سے شوق ہے تو میں لگا سکتا ہوں۔ اور جیسے یہ سب کچھ کافی نہیں تھا، اس نے کہا کہ ’سر میں نے ائر کنڈیشنر لگا دیا ہے۔ آپ بتائیے گا کہ ٹمپریچر زیادہ یا کم ہو تو آپ کی مرضی کے مطابق کردوں‘

اس کے ساتھ ہی اس نے رستے کے بارے میں بتا دیا کہ اس وقت کس رستے پر سے وہ گزرنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ اس وقت وہاں رش نہیں ہوتا۔ پھر بڑی پتے کی بات پوچھی ’سر اگر آپ چاہیں تو رستے سے گزرتے ہوئے میں آپ کو اس علاقے کے بارے میں بھی بتا سکتا ہوں۔ اور اگر آپ چاہیں تو آپ اپنی سوچوں میں گم رہ سکتے ہیں‘ احمد شیشے میں دیکھ کر مسکرایا۔

میں نے پوچھا ’احمد ، کیا تم ہمیشہ سے ایسے ہی ٹیکسی چلاتے رہے ہو؟‘ احمد کے چہرے پر پھر سے مسکراہٹ آئی۔ ’نہیں سر، یہ کچھ دو سال سے میں نے ایسا شروع کیا ہے۔ اس سے پانچ سال قبل میں بھی اسی طرح کڑھتا تھا جیسے کہ دوسرے ٹیکسی والے کڑھتے ہیں۔ میں بھی اپنا سارا وقت شکایتیں کرتے گزارا کرتا تھا۔ پھر میں نے ایک دن کسی سے سنا کہ سوچ کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ یہ سوچ کی طاقت ہوتی ہے کہ آپ بطخ بننا پسند کریں گے کہ عقاب۔ اگر آپ گھر سے مسائل کی توقع کرکے نکلیں گے تو آپ کا سارا دن برا ہی گزرے گا۔ بطخ کی طرح ہر وقت کی ٹیں ٹیں سے کوئی فائدہ نہیں، عقاب کی طرح بلندی پر اڑو تو سارے جہاں سے مختلف لگو گے۔ یہ بات میرے دماغ کو تیر کی طرح لگی اور اس نے میری زندگی بدل دی۔

‘میں نے سوچا یہ تو میری زندگی ہے۔ میں ہر وقت شکایتوں کا انبار لئے ہوتا تھا اور بطخ کی طرح سے ٹیں ٹیں کرتا رہتا تھا۔ بس میں نے عقاب بننے کا فیصلہ کیا۔ میں نے ارد گرد دیکھا تو تمام ٹیکسیاں گندی دیکھیں۔ ان کے ڈرائیور گندے کپڑوں میں ملبوس ہوتے تھے۔ ہر وقت شکایتیں کرتے رہتے تھے اور مسافروں کے ساتھ جھگڑتے رہتے تھے۔ ان کے مسافر بھی ان سے بے زار ہوتے تھے۔ کوئی بھی خوش نہیں ہوتا تھا۔ بس میں نے خود کو بدلنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے میں نے چند تبدیلیاں کیں۔ گاڑی صاف رکھنی شروع کی اور اپنے لباس پر توجہ دی۔ جب گاہکوں کی طرف سے حوصلہ افزائی ملی تو میں نے مزید بہتری کی۔ اور اب بھی بہتری کی تلاش ہے۔‘

میں نے اپنی دلچسپی کے لئے پوچھا کہ کیا اس سے تمہاری آمدنی پر کوئی فرق پڑا

‘سر بڑا فرق پڑا۔ پہلے سال تو میری انکم ڈبل ہوگئی اور اس سال لگتا ہے چار گنا بڑھ جائے گی۔ اب میرے گاہک مجھے فون پر بک کرتے ہیں یا ایس ایم ایس کرکے وقت طے کرلیتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ اب مجھے ایک اور ٹیکسی خریدنی پڑے گی اور اپنے جیسے کسی بندے کو اس پر لگانا پڑے گا۔‘

یہ احمد تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اسے بطخ نہیں بننا بلکہ عقاب بننا ہے۔ کیا خیال ہے، اس ہفتے سے عقاب کا ہفتہ نہ شروع کیا جائے؟

 احمد نے تو مجھے ایک نیا فلسفہ دیا ہے۔ بڑا فلسفہ۔ وہ جو کسی نے کہا ہے کہ کوئی پانی میں گرنے سے نہیں مرتا۔ ہاتھ پاؤں نہ مارنے سے مرتا ہے۔

Ahmed decided that he did not want to be a duck but an eagle!

I got off the plane and went through customs to the taxi stand. When I stopped a taxi, what struck me was the sparkle of the car. Its polish was shining from afar. A smart driver sped out of the taxi. She was wearing a white shirt and black pants that looked freshly ironed. She also neatly tied a black tie. He came to the other side of the taxi and opened the back door for me.

He handed me a beautiful card and said, “As long as I keep your luggage in the bin, you can read my mission statement.” I opened my eyes in surprise. What is this? ‘My name is Ahmed, your driver. My mission is to get the passenger to their destination in the shortest, safest, and cheapest way and provide them with the right environment. ” I was not surprised. When I looked around, the inside of the taxi was as clean as it was shining from the outside.

Ahmed, meanwhile, was sitting on the steering wheel. “Sir, would you like some coffee or tea?” There are two thermoses with tea and coffee. I said jokingly, “No, I’ll have a cold drink.” “No problem, sir,” he said. I have a cooler in front of me. It contains coke, buttermilk, water, and orange juice. What would you like to take? ‘I demanded Lucy and she grabbed the box from the front. I hadn’t even met him yet when he said, “Sir if you want to read something, I have Urdu and English newspapers.”

When I stopped the car at the next signal, the pilgrim handed me another card that contained all the FM stations that could be on my car’s radio. Also, they have all the albums I have on CD. If you are interested in music, I can apply. And as if all this was not enough, he said, “Sir, I have installed the air conditioner. You can tell if the temperature is too high or too low.

At the same time, he explained the route he intends to take at the moment, as there is no rush at the moment. Then he asked about the big address, “Sir if you want, I can tell you about this area while passing by.” And if you want, you can get lost in your thoughts, ”Ahmed smiled as he looked in the mirror.

I asked, “Ahmed, have you always been driving a taxi like this?” Ahmed smiled again. “No, sir, I’ve been doing this for a couple of years now. Five years ago, I used to drive like other taxi drivers. I also spent all my time complaining. Then one day I heard from someone what The Power of Positive Thinking. It is The Power of Positive Thinking that you would like to be a duck or an eagle. If you leave home expecting problems, you will have a bad day. Like a duck, there is no use in flying all the time. It struck my mind like an arrow and changed my life.

“I thought, ‘This is my life. I was always complaining and chirping like a duck. I just decided to become an eagle. I looked around and saw all the taxis were dirty. Their drivers were dressed in dirty clothes. Complained all the time and quarreled with the passengers. His passengers were also disgusted with him. No one was happy. I just decided to change myself. First I made a few changes. He started to keep the car clean and pay attention to his clothes. I got better when I got encouragement from customers. And there is still room for improvement. “

I asked for my interest if it made any difference to your income

“It simply came to our notice then. The first year my income doubled and this year it looks like it will quadruple. Now my customers book me on the phone or send me an appointment. I think now I have to buy another taxi and hire a servant like myself. ‘

This was Ahmed. He decided that he did not want to be a duck but an eagle. What do you think, Eagle Week should not start from this week?

 Ahmed has given me a new philosophy. Great philosophy. Someone has said that no one dies by falling into the water. The hand dies without hitting the foot.

The Power of Positive Thinking

One Comment on “Power of Positive Thinking | Early Pk”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *